اہل بیتؑ: ہدایت، احسان اور سعادت کا سرچشمہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلام کی تاریخ اور روحانی تعلیمات میں اہل بیت اطہار علیہم السلام کا مقام و مرتبہ وہ روشن چراغ ہے جو انسانیت کو تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ اقدس وہ مرکزِ فیض ہے جہاں سے ہدایت کا یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے اور آپؐ کے پاکیزہ خاندان سے جا ملتا ہے۔
حدیث نبوی کی روشنی میں امامِ اہل سنت کے معتبر ماخذ 'البرہان فی تفسیر القرآن' جلد 3، صفحہ 232 میں ایک نہایت اہم اور بصیرت افروز حدیث مبارکہ نقل ہوئی ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہلِ بیتؑ کے مقام کو یوں بیان فرمایا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "بى اُنذِرتُم وَ بِعَلىِّ بنِ أبى طالِبِ اهْتَدَيتُم... وَ بِالْحَسَنِ اُعْطيتُمُ الإْحسانُ وَ بِالْحُسَينِ تَسعَدونَ وَ بِهِ تَشقونَ ألا وَ إنَّ الْحُسَينَ بابٌ مِن أبوابِ الْجَنَّةِ مَن عاداهُ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ ريحَ الْجَنَّةِ۔" ترجمہ: "میرے ذریعے تمہیں متنبہ کیا گیا اور خبردار کیا گیا، اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے وسیلے سے تم ہدایت پاؤگے۔ حسن علیہ السلام کے ذریعے تم پر احسان ہوگا، اور حسین علیہ السلام کے ذریعے تم خوش بخت اور سعید ہوجاؤ گے اور جو ان کا منکر ہوگا وہ بدبخت ہوجائے گا۔ جان لو کہ حسین جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ جو بھی ان کے ساتھ دشمنی کرے گا، خداوندِ متعال اس پر جنت…
Komentarze